عوامی ایکشن کمیٹی کی آڑ میں تشدد، دھمکیوں اور انتشار کی سیاست ناقابل قبول ہے، ڈاکٹر عرفان اشرف

Read Time:3 Minute, 45 Second

سردار یعقوب آزاد کشمیر میں خونریزی اور خانہ جنگی کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں، مسلم کانفرنس رہنما کا الزام

اسلام آباد: مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار برائےپونچھ حلقہ تھری آزاد کشمیر ڈاکٹر عرفان اشرف نے ساتھی رہنماؤں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ آزاد کشمیر بالخصوص راولاکوٹ میں حالات کو دانستہ طور پر کشیدہ بنایا جا رہا ہے اور بعض سیاسی عناصر عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں مسلم کانفرنس کے ضلعی صدر، نائب صدر حسین عباس، سینئر رہنما مشتاق احمد، جنرل سیکرٹری شاہد شاہ اور یوتھ ونگ کے آرگنائزر زاہد سمیت دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر عرفان اشرف نے دعویٰ کیا کہ 5 اور 6 جون کی درمیانی شب راولاکوٹ جاتے ہوئے برما پل کے قریب ان اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ کیا، فائرنگ کی اور انہیں قتل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ معجزانہ طور پر جان بچا کر واپس اپنے گاؤں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سردار یعقوب خان اس تمام صورتحال میں براہ راست کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے حامی علاقے میں نفرت، انتشار اور تصادم کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان اشرف نے کہا کہ ان کے کارکنوں کو جان سے مارنے، گھروں کو جلانے اور خاندانوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس ہمیشہ عوامی حقوق اور جمہوری جدوجہد کی حامی رہی ہے اور جہاں بھی عوام کے جائز مطالبات ہوں گے، ان کی حمایت کی جائے گی، تاہم کسی بھی تحریک کے نام پر تشدد، اسلحہ برداری اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ ڈاکٹر عرفان اشرف نے عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ اگر ان کی تحریک واقعی پرامن اور عوامی حقوق کے لیے ہے تو وہ کھل کر مسلح عناصر اور تشدد پر اکسانے والے گروہوں سے لاتعلقی کا اعلان کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تحریک پرامن ہے تو راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی اور سیاسی کارکنوں کو دھمکیاں کیوں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین بالخصوص عمر نزیر کشمیری سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں موجود ایسے عناصر کی نشاندہی کریں جو عوامی حقوق کی تحریک کو متنازع بنا رہے ہیں اور اسے سیاسی و نظریاتی تصادم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ مسلم کانفرنس رہنما نے کہا کہ راولاکوٹ اور گردونواح میں سڑکوں کی بندش کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں، ادویات اور اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ دیہی علاقوں کے مکین سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر پاکستان آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ آزاد کشمیر کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور اپنی جماعت سے وابستہ ایسے عناصر کا محاسبہ کریں جو سیاسی مفادات کے لیے خطے کو انتشار کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان اشرف نے کہا کہ ان کے حلقے کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ صحت، تعلیم، سڑکوں، بجلی اور سیاحت کے شعبوں میں ترقی نہ ہونے کی ذمہ داری ان سیاسی قیادتوں پر عائد ہوتی ہے جو برسوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود عوامی مسائل حل نہ کر سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حلقے میں مسلم کانفرنس کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ مخالفین سیاسی شکست کے خوف سے تشدد اور دباؤ کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈاکٹر عرفان اشرف نے وفاقی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا سے مطالبہ کیا کہ برمنگ پل حملہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف دہشت گردی سمیت متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں اور آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان، کشمیری عوام کے حقوق اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والے کارکن کسی قسم کی دھمکی، تشدد یا دباؤ سے مرعوب نہیں ہوں گے اور آئینی و جمہوری طریقے سے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Previous post معروف پاکستانی کرکٹر عماد وسیم نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی